Saturday, 10 December 2016

اٹھا جو مرا دست دعا اور طرح سے

اٹھا جو مِرا دستِ دعا اور طرح سے
مجھ کو مِرے داتا نے دیا اور طرح سے
دستک مِری اوروں سے انوکھی نہ تھی لیکن 
میرے لیے دروازہ کھلا، اور طرح سے
کچھ اور ہی ترکیبِ نمو سوچ رکھی تھی 
راس آئی مجھے آب و ہوا اور طرح سے
اوروں سے کوئی فرق اگر تھا تو بس اتنا 
میں نے بھی وہی کام کِیا اور طرح سے
یوں تو کوئی تیار بتانے پہ نہیں تھا
پوچھا تِرے کوچے کا پتا اور طرح سے
سلطان کا معتوب فقط میں ہی نہیں تھا
لیکن تھا غضب مجھ پہ سوا اور طرح سے
یوں تو مجھے سوجھے نہیں الفاظ مناسب 
یا تُو نے مِرا حال سنا اور طرح سے
اول تو مجھے ڈھنگ سے جینا نہیں آیا
جینا جو پڑا تو میں جیا اور طرح سے
یاؔسر! کسی دہلیز پہ جھکنا نہیں آیا
بالفرض جھکا بھی تو جھکا اور طرح سے

خالد اقبال یاسر

No comments:

Post a Comment