Thursday, 6 May 2021

کوئی تہمت لگائے تو اذیت کم نہیں ہوتی

 کوئی تہمت لگائے تو اذیت کم نہیں ہوتی

مگر میں جانتا ہوں اس سے عزت کم نہیں ہوتی

یہ وہ دولت ہے جو دل کی بدولت کم نہیں ہوتی

محبت کرتے رہنے سے محبت کم نہیں ہوتی

محبت بد گمانی کو ہمیشہ ساتھ رکھتی ہے

مداوا ہو بھی جائے تو شکایت کم نہیں ہوتی

جو باتیں لب پہ آئی ہوں وہ باتیں ہو کے رہتی ہیں

کبھی انگلی چبانے سے اذیت کم نہیں ہوتی

نکل آتا ہے رستے سے نیا رستہ قمر، لیکن

کسی کے ساتھ ہونے سے مسافت کم نہیں ہوتی


ریحانہ قمر

No comments:

Post a Comment