کوئی تہمت لگائے تو اذیت کم نہیں ہوتی
مگر میں جانتا ہوں اس سے عزت کم نہیں ہوتی
یہ وہ دولت ہے جو دل کی بدولت کم نہیں ہوتی
محبت کرتے رہنے سے محبت کم نہیں ہوتی
محبت بد گمانی کو ہمیشہ ساتھ رکھتی ہے
مداوا ہو بھی جائے تو شکایت کم نہیں ہوتی
جو باتیں لب پہ آئی ہوں وہ باتیں ہو کے رہتی ہیں
کبھی انگلی چبانے سے اذیت کم نہیں ہوتی
نکل آتا ہے رستے سے نیا رستہ قمر، لیکن
کسی کے ساتھ ہونے سے مسافت کم نہیں ہوتی
ریحانہ قمر
No comments:
Post a Comment