چاندی کے ہالے میں کس کو کھوجتی ہو تم
چھُپ کے یوں اُداسی میں کس کو سوچتی ہو تم
بار بار چُوڑی کے سُر کسے سُناتی ہو؟
شور سے صدا کس کی توڑ توڑ لاتی ہو؟
بزم میں بہاروں کی، کھوئی کھوئی لگتی ہو
دوستوں کے مجمع میں، کیوں اکیلی رہتی ہو
جھالروں سے پلکوں کی، ٹُوٹ ٹُوٹ جاتی ہو
بُلبُلے کی صُورت میں، پھُوٹ پھُوٹ جاتی ہو
دُھند سے لِپٹ کر کیوں، سُونی راہ تکتی ہو
کھڑکیوں سے برکھا کو، دیکھ کر بِلکتی ہو
سارے سپنے آنکھوں سے ایک بار بہنے دو
رات کی اُبھاگن کو تارا تارا گہنے دو
ماضی، حال، مستقبل، کچھ تو کورا رہنے دو
پُل کے نیچے بہنے دو آنسوؤں کی یہ ندیاں
وقت چلتا جائے گا، بِیت جائیں گی صدیاں
بے حسوں کی بستی میں، بے حسی کو رہنے دو
دل تو پُورا پاگل ہے اس کو پُورا رہنے دو
یہ جو کہتا رہتا ہے، اس کو بھی وہ کہنے دو
اس کو کورا رہنے دو
تم یہ کورا رہنے دو
فرزانہ نیناں
No comments:
Post a Comment