Thursday, 6 May 2021

سمجھتے تھے مگر پھر بھی نہ رکھیں دوریاں ہم نے

 سمجھتے تھے مگر پھر بھی نہ رکھیں دوریاں ہم نے

چراغوں کو جلانے میں جلا لیں انگلیاں ہم نے

کوئی تتلی ہمارے پاس آتی بھی تو کیا آتی

سجائے عمر بھر کاغذ کے پھول اور پتیاں ہم نے

یونہی گُھٹ گُھٹ کے مر جانا ہمیں منظور تھا لیکن

کسی کم ظرف پر ظاہر نہ کیں مجبوریاں ہم نے

ہم اس محفل میں بس ایک بار سچ بولے تھے والی

زباں پر عمر بھر محسوس کیں چنگاریاں ہم نے


والی آسی

No comments:

Post a Comment