نجانے آج یہ کس کا خیال آیا ہے
خوشی کے رنگ لیے ہر ملال آیا ہے
وہ اک شخص کہ حاصل نہ تھا جو خود کو بھی
مِٹا کسی پہ تو کیسا بے حال آیا ہے
زباں پہ حرفِ طلب بھی نہیں کوئی پھر بھی
نگاہِ دوست میں رنگِ جلال آیا ہے
کیا نہ ذکر بھی جس کا تمام عمر کبھی
ہمارے کام بہت وہ ملال آیا ہے
نہیں ہے تم سے کوئی دوستی بھی اب تو مگر
قدم قدم پہ یہ کیسا وبال آیا ہے
احمد ہمدانی
No comments:
Post a Comment