Thursday, 6 May 2021

نجانے آج یہ کس کا خیال آیا ہے

 نجانے آج یہ کس کا خیال آیا ہے

خوشی کے رنگ لیے ہر ملال آیا ہے

وہ اک شخص کہ حاصل نہ تھا جو خود کو بھی

مِٹا کسی پہ تو کیسا بے حال آیا ہے

زباں پہ حرفِ طلب بھی نہیں کوئی پھر بھی

نگاہِ دوست میں رنگِ جلال آیا ہے

کیا نہ ذکر بھی جس کا تمام عمر کبھی

ہمارے کام بہت وہ ملال آیا ہے

نہیں ہے تم سے کوئی دوستی بھی اب تو مگر

قدم قدم پہ یہ کیسا وبال آیا ہے


احمد ہمدانی

No comments:

Post a Comment