سمندر روک لو گے
کہو تو قلم توڑ دوں
اور اپنی آنکھیں بند کر لوں
حکم ہو تو زباں بھی بند رکھوں
اور کانوں میں روئی ڈال لوں
مگر پھر بھی کچھ نہ ہو گا
میں تو اک قطرہ ہوں
اور وہ جو سمندر بھر چکا ہے
اک لاوے کی طرح پک چکا ہے
ہر ہاتھ میں اک تحریر ہے
زبانِ خلق سے کیا کہو گے؟
سبھی کو مار دو گے؟
سمندر روک لو گے؟
جو ہاتھوں میں دھرا تھا رنگ تم نے
وہ دھیرے دھیرے وحشت بن چکا ہے
زبانِ عام دہشت بن چکا ہے
ظلم کی کوکھ سے طوفان جنم لیتے ہیں
سمجھ جاؤ ابھی بھی
پلٹ جاؤ ابھی بھی
کہیں نہ دیر ہو جائے
کہیں اندھیر نہ ہو جائے
اعظم بیگ
No comments:
Post a Comment