زندگی اصل میں آسان بھی، دشوار بھی ہے
ایک دیوار کہ دیوار کے اس پار بھی ہے
کیا کہوں تجھ سے کہ اس عشق سرائے کی فضا
سہم گوں بھی ہے، طلسمی بھی، پراسرار بھی ہے
دستِ قدرت نے بنایا ہے ہر اک پیکر کو
میں بِلا وجہ تو اس درجہ انا دار نہیں
دوستی میں مِرا اپنا کوئی معیار بھی ہے
اکثر اوقات یہی سوچتی رہتی ہوں َیں
ہجر کے جیسا کوئی دوسرا آزار بھی ہے
یہ کہانی جو محبت کی ہے ریحانہ قمرؔ
اس کہانی میں یقیناً مِرا کردار بھی ہے
ریحانہ قمر
No comments:
Post a Comment