Monday, 7 November 2016

کچھ لوگ جو سوار ہیں کاغذ کی ناؤ پر

کچھ لوگ جو سوار ہیں کاغذ کی ناؤ پر
تہمت تراشتے ہیں ہوا کے دباؤ پر
موسم ہے سرد مہر، لہو ہے جماؤ پر
چوپال چپ ہے، بھیڑ لگی ہے الاؤ پر
سب چاندنی سے خوش ہیں، کسی کو خبر نہیں
پھاہا ہے مہتاب کا گردُوں کے گھاؤ پر
اب وہ کسی بساط کی فہرست میں نہیں
جن منچلوں نے جان لگا دی تھی داؤ پر
سورج کے سامنے ہیں نئے دن کے مرحلے
اب رات جا چکی ہے گزشتہ پڑاؤ پر
گلدان پر ہے نرم سویرے کی زرد دھوپ
حلقہ بنا ہے کانپتی کرنوں کا گھاؤ پر
یوں خود فریبیوں میں سفر ہو رہا ہے طے
بیٹھے ہیں پُل پہ اور نظر ہے بہاؤ پر

احسان دانش

No comments:

Post a Comment