پوری طرح کسی پہ ابھی کب عیاں ہوں میں
خود اپنے واسطے کوئی رازِ نہاں ہوں میں
کھلنے لگے ہیں مجھ پہ سب اسرارِ کائنات
حیرت سرائے عشق کی جانب رواں ہوں میں
نکلی تھی ایک روز خود اپنی تلاش میں
جلتی ہوں اپنے شوق کی آتش میں رات دن
خود اپنی ذات میں کوئی آتش فشاں ہوں میں
اب اور کیا ثبوت دوں اپنے خلوص کا
اس بدگماں کے بارے میں بھی خوشگماں ہوں میں
رہتی ہوں اور ہی کسی دنیا میں گم قمرؔ
یعنی کہ خود میں ہوتے ہوئے بھی کہاں ہوں میں
ریحانہ قمر
No comments:
Post a Comment