بچپن کی وہ محرومی چلی آئی کہاں سے
روتی ہوئی نکلی میں کھلونوں کی دکاں سے
تم دونوں محاذوں پہ میرا ساتھ نبھانا
اِک جنگ میری خود سے ہے، اک جنگ جہاں سے
یہ گھر ہے، مگر اس کا دریچہ نہیں کوئی
اب دیکھنا یہ ہے، میں نکلتی ہوں کہاں سے
خود تو مجھے حق مانگنا آیا نہیں اب تک
ہر بات کہلواتی ہوں بچوں کی زباں سے
اب اتنا تعلق ہے، کہ توڑا نہیں جاتا
جو توڑ کے جائے گا قمرؔ جائے گا جاں سے
روتی ہوئی نکلی میں کھلونوں کی دکاں سے
تم دونوں محاذوں پہ میرا ساتھ نبھانا
اِک جنگ میری خود سے ہے، اک جنگ جہاں سے
یہ گھر ہے، مگر اس کا دریچہ نہیں کوئی
اب دیکھنا یہ ہے، میں نکلتی ہوں کہاں سے
خود تو مجھے حق مانگنا آیا نہیں اب تک
ہر بات کہلواتی ہوں بچوں کی زباں سے
اب اتنا تعلق ہے، کہ توڑا نہیں جاتا
جو توڑ کے جائے گا قمرؔ جائے گا جاں سے
ریحانہ قمر
No comments:
Post a Comment