Monday, 6 January 2014

بچپن کی وہ محرومی چلی آئی کہاں سے

بچپن کی وہ محرومی چلی آئی کہاں سے
روتی ہوئی نکلی میں کھلونوں کی دکاں سے
تم دونوں محاذوں پہ میرا ساتھ نبھانا
اِک جنگ میری خود سے ہے، اک جنگ جہاں سے
یہ گھر ہے، مگر اس کا دریچہ نہیں کوئی
اب دیکھنا یہ ہے، میں نکلتی ہوں کہاں سے
خود تو مجھے حق مانگنا آیا نہیں اب تک
ہر بات کہلواتی ہوں بچوں کی زباں سے
اب اتنا تعلق ہے، کہ توڑا نہیں جاتا
جو توڑ کے جائے گا قمرؔ جائے گا جاں سے

ریحانہ قمر

No comments:

Post a Comment