Sunday, 6 November 2016

پھولوں سے بھری راہ گزر کچھ بھی نہیں ہے

پھولوں سے بھری راہگزر کچھ بھی نہیں ہے
تم ساتھ نہیں ہو تو سفر کچھ بھی نہیں ہے
یہ چوڑیاں یہ پھول یہ وعدوں سے بھرے کارڈ
یہ کیا ہیں تِرے دل میں اگر کچھ بھی نہیں ہے
خوش ہوں کہ تِرے حرفِ تسلی کے مقابل
غم کچھ بھی نہیں، دیدۂ تر کچھ بھی نہیں ہے
ڈرتی ہوں کہ اک دم ہی کہیں لوٹ نہ جائے
جس پر مِری باتوں کا اثر کچھ بھی نہیں ہے
جب تم ہی میسر ہو تو کیوں لگتا ہے مجھ کو
سب کچھ ہے مِرے پاس مگر کچھ بھی نہیں ہے

ریحانہ قمر

No comments:

Post a Comment