پھولوں سے بھری راہگزر کچھ بھی نہیں ہے
تم ساتھ نہیں ہو تو سفر کچھ بھی نہیں ہے
یہ چوڑیاں یہ پھول یہ وعدوں سے بھرے کارڈ
یہ کیا ہیں تِرے دل میں اگر کچھ بھی نہیں ہے
خوش ہوں کہ تِرے حرفِ تسلی کے مقابل
ڈرتی ہوں کہ اک دم ہی کہیں لوٹ نہ جائے
جس پر مِری باتوں کا اثر کچھ بھی نہیں ہے
جب تم ہی میسر ہو تو کیوں لگتا ہے مجھ کو
سب کچھ ہے مِرے پاس مگر کچھ بھی نہیں ہے
ریحانہ قمر
No comments:
Post a Comment