Sunday, 6 March 2022

آنسوو آشکار مت ہونا

آنسوو! آشکار مت ہونا

بے طرح بیقرار مت ہونا

تیری توقیر خاک ہی نہ ہو

اشک تو گریہ زار مت ہونا

درد سارے گھٹا کو پہنا دے

تُو مگر اشکبار مت ہونا

فصل گل پر نہ حرف آ جائے

دل مِرے! داغدار مت ہونا

عاجزی ہی گلے نہ پڑ جائے

اتنا بھی شرمسار مت ہونا

ہم جلا لیں گے خود لہو کے چراغ

تم کبھی شعلہ بار مت ہونا

دیکھ نورِ سحر بھی پائے گا

ظلمتوں کا شکار مت ہونا

راہِ منزل کو استوار کرو

راستوں کا غبار مت ہونا!

ساجدہ لاکھ مشکلیں ہوں، پر

کاسۂ سازگار مت ہونا


ساجدہ انور

No comments:

Post a Comment