Sunday, 6 March 2022

اپنے نام کی تختی

 تختی


اپنے ہاتھوں سے جو میں نے 

گھر کے دروازے پہ اپنے

لٹکائی ہے شوق سے اپنے نام کی تختی

راہنما ہے میرے ملنے والوں کی

لیکن موت جو ناگن بن کر

ڈس لیتی ہے انساں کو

مجھ کو بھی تو ڈس لے گی

کل جب میں اس دنیا سے اٹھ جاؤں گا

میرا ملنے والا بھی کوئی نہ ہو گا

گھر کے دروازے پہ میرے نام کی تختی

بوجھ بنے گی گھر میں رہنے والوں پر

جیسے اس تختی سے میں نے 

باپ کا نام مٹا کر اس پر اپنا نام لکھایا ہے

اک دن یونہی میرا وارث

میرا نام مٹا کر اس پر اپنا نام لکھائے گا

لکڑی کی یہ ظالم تختی

جب تک قائم ہے نجانے کتنی نسلیں کھائے گی


ازہر درانی

No comments:

Post a Comment