تختی
اپنے ہاتھوں سے جو میں نے
گھر کے دروازے پہ اپنے
لٹکائی ہے شوق سے اپنے نام کی تختی
راہنما ہے میرے ملنے والوں کی
لیکن موت جو ناگن بن کر
ڈس لیتی ہے انساں کو
مجھ کو بھی تو ڈس لے گی
کل جب میں اس دنیا سے اٹھ جاؤں گا
میرا ملنے والا بھی کوئی نہ ہو گا
گھر کے دروازے پہ میرے نام کی تختی
بوجھ بنے گی گھر میں رہنے والوں پر
جیسے اس تختی سے میں نے
باپ کا نام مٹا کر اس پر اپنا نام لکھایا ہے
اک دن یونہی میرا وارث
میرا نام مٹا کر اس پر اپنا نام لکھائے گا
لکڑی کی یہ ظالم تختی
جب تک قائم ہے نجانے کتنی نسلیں کھائے گی
ازہر درانی
No comments:
Post a Comment