دِیے کے حق میں جبھی تو گواہی میری ہے
کہ اس کے بجھنے میں ساری تباہی میری ہے
اگر میں آنکھ میں سورج کی ضَو نہ بھر پاﺅں
تو پھر سمجھ لے کہ یہ کم نگاہی میری ہے
مجھے خموشی کا طعنہ ضرور دے، لیکن
سکوتِ شب میں تو پہلی صدا ہی میری ہے
مجھے بچا نہیں سکتا بیانیہ میرا
مقامِ عدل ہے اور سربراہی میری ہے
جو چاہے تو وہ سبھی کچھ روا ہے تیرے لیے
ہر ایک بات یہاں ناروا ہی میری ہے
بڑے جتن سے کمایا ہے میں نے نورِسخن
پھروں جو بات سے تو رُو سیاہی میری ہے
شریکِ راز ہوں میں حرف کے تقدس کا
یہ سلطنت ہے مِری، کجکلاہی میری ہے
جنید آزر
No comments:
Post a Comment