کراچی کرچیوں میں بٹ گیا ہے
یہ اپنے آئینے سے کٹ گیا ہے
تسلط کی کشا کش میں بالآخر
یہ چشمہ خاروخس سے پٹ گیا ہے
ملی ہے یوں بھی دادِ تشنہ کامی
کل آ جائے گا وہ میرے مقابل
ابھی جو چوم کر چوکھٹ گیا ہے
اسی کا سامنا ہر وقت ہے جو
بظاہر سامنے سے ہٹ گیا ہے
وطن اہلِ وطن کا کب ہے محسؔن
وطن اہلِ زمیں میں بٹ گیا ہے
محسن بھوپالی
No comments:
Post a Comment