Wednesday, 4 October 2023

سانحہ یاد نہیں راہ کے کھو جانے کا

 سانحہ یاد نہیں راہ کے کھو جانے کا

ہاں مگر قافلے والوں کے بھی سو جانے کا

غمِ ایّام کے بخشے ہُوئے لمحوں کی قسم

بزمِ تخیّل سے تو نام نہ لو جانے کا

اب شناسا بھی مِلا کرتے ہیں غیروں کی طرح

یہ صِلہ ہم کو مِلا آپ کے ہو جانے کا

لاکھ واماندہ سہی نیّتِ شب تو دیکھو

دوستو! یہ کوئی ہنگام ہے سو جانے کا

حاصلِ عمر ہُوئی جاتی ہے بے نام خلِش

کوئی مُژدہ ہی مِلے درد کے سو جانے کا

زیست ہمسائے سے مانگا ہُوا زیور تو نہیں

ایک دھڑکا سا لگا رہتا ہے کھو جانے کا


محسن بھوپالی

No comments:

Post a Comment