سانحہ یاد نہیں راہ کے کھو جانے کا
ہاں مگر قافلے والوں کے بھی سو جانے کا
غمِ ایّام کے بخشے ہُوئے لمحوں کی قسم
بزمِ تخیّل سے تو نام نہ لو جانے کا
اب شناسا بھی مِلا کرتے ہیں غیروں کی طرح
یہ صِلہ ہم کو مِلا آپ کے ہو جانے کا
لاکھ واماندہ سہی نیّتِ شب تو دیکھو
دوستو! یہ کوئی ہنگام ہے سو جانے کا
حاصلِ عمر ہُوئی جاتی ہے بے نام خلِش
کوئی مُژدہ ہی مِلے درد کے سو جانے کا
زیست ہمسائے سے مانگا ہُوا زیور تو نہیں
ایک دھڑکا سا لگا رہتا ہے کھو جانے کا
محسن بھوپالی
No comments:
Post a Comment