Wednesday, 4 October 2023

گواہ پیش ہوئے اور نہ ہم بلائے گئے

 گواہ پیش ہوئے، اور نہ ہم بلائے گئے

لکھے لکھائے ہوئے فیصلے سنائے گئے

مُسافرانِ وفا کا وہ خوف طاری تھا

کہ منزلوں کے نشاں تک یہاں مٹائے گئے

ہم ایسے اجنبی لوگوں کے درمیان ہیں اسیر

ہمارے راز ہمِیں سے یہاں چھپائے گئے

وہی ہُوا کہ پرانی چھتوں پہ جا اُترے

نئی چھتوں سے پرندے نئے اڑائے گئے

وہ عکس بند ہوئے چشمِ غیر کی خاطر

ہمارے خواب ہمیں ہی نہیں دکھائے گئے

مِلا تھا عشق ہمیں جس جگہ، ہم اہلِ جنوں

تمام عمر اُسی راستے سے آئے گئے

دِیوں کی ایسی بھی توہین کب ہوئی تھی سلیم

جہاں اندھیرے نہیں تھے وہاں جلائے گئے


سلیم کوثر

No comments:

Post a Comment