Wednesday, 21 July 2021

ہوک سی دل میں اٹھی تو یاد آئی

 ہوک سی دل میں اٹھی تو یاد آئی

گھر کو اپنے جب چلی تو یاد آئی

غسل کو جب سوٹ اپنا خود نکالا

بے وجہ بھر آیا جی تو یاد آئی

بھول کر سب لکھ رہی ہوں پھر غزل میں

فکر پھر نہ کھانے کی تو یاد آئی

گو شکایت بھی رہی تجھ سے تھی لیکن

اب نہیں کچھ بھی رہی، تو یاد آئی

سبزیاں بھی کاٹنی ہیں خود مجھے اب

اٹھتی ہوں میں بس ابھی تو یاد آئی

گرچہ آئی تھی ملازم کی طرح تو

سمجھا تھا پر بیٹی ہی تو یاد آئی


نائلہ خاور

No comments:

Post a Comment