ہوک سی دل میں اٹھی تو یاد آئی
گھر کو اپنے جب چلی تو یاد آئی
غسل کو جب سوٹ اپنا خود نکالا
بے وجہ بھر آیا جی تو یاد آئی
بھول کر سب لکھ رہی ہوں پھر غزل میں
فکر پھر نہ کھانے کی تو یاد آئی
گو شکایت بھی رہی تجھ سے تھی لیکن
اب نہیں کچھ بھی رہی، تو یاد آئی
سبزیاں بھی کاٹنی ہیں خود مجھے اب
اٹھتی ہوں میں بس ابھی تو یاد آئی
گرچہ آئی تھی ملازم کی طرح تو
سمجھا تھا پر بیٹی ہی تو یاد آئی
نائلہ خاور
No comments:
Post a Comment