نالہ و فریاد کو اپنائیں کیا
وقت کی بے مہریاں گنوائیں کیا
یہ سزائے ہجر ہے خود ساختہ
داغ ہائے رنج و غم دکھلائیں کیا
موسمِ گل ہے مگر نادان دل
کس لیے مغموم ہے بتلائیں کیا
وقت ہی باقی بچا ہے کس قدر
کاکلِ ہستی کو اب سلجھائیں کیا
لذتِ آزار، تیری خیر ہو
وحشتیں اپنائیں کیا، ٹھکرائیں کیا
کیا الجھنا وقت سے تزئین اب
”ہو رہے گا کچھ نہ کچھ، گھبرائیں کیا“
تزئین راز
No comments:
Post a Comment