Monday, 19 July 2021

جھیل کنکریاں گنتی ہے

 آنکھوں کی مسیحائی اور کنول


جھیل کنکریاں گنتی ہے

پیڑ بارود سونگھ کر عدد بتاتے ہیں

اور پرندے خالی گنبدوں میں

چہکار سے عاری پرواز کرتے

تھک کر گرنے لگے ہیں

چَھرے سے چِھدے ہاتھ

ہتھیلیوں کی اوک میں

دانہ نہیں بھر سکتے

دید کے زخم

ہلدی بھی ٹھیک نہیں کرتی

اور کنول کی کلیاں

آنکھوں کی مسیحائی کیوں کرتیں

وہ زباں بُریدہ

کسی دھرم میں

مقدس جو گردانی گئیں


سبین علی

No comments:

Post a Comment