Wednesday, 16 March 2022

بے وفا گر ہے وہ تجدید وفا ہو کیسے

بے وفا گر ہے وہ تجدید وفا ہو کیسے

درد ہی دل کی دوا ہو تو دوا ہو کیسے

وہ کبھی میر ہے لکھتا کبھی خود کو غالب

حرف آ جائے گا تنقید روا ہو کیسے

جلوہ گر ہر سو فروزاں جو درخشاں مجھ میں

ہو نہ گر دور نگاہوں سے خدا ہو کیسے

عشق کب کھیل تماشہ ہے یہ کوئی دل کا

قرض ہے سر پہ میرے کوئی ادا ہو کیسے

میں کہ اک بندۂ خاطی ہوں کھڑا ہوں در پر

لفظ مجبور ہیں سب حمد و ثنا ہو کیسے

میں ہوں یا تم ہمیں جینا ہے کسی کی خاطر

روح کا جسم سے رشتہ ہے جدا ہو کیسے

اب تو بس یہ ہے کہ ہو جائیں فنا ہم دونوں

کیا کریں عمر یہ اب صرف دعا ہو کیسے

صرف پتھر ہی نہیں ہو بھی لہو کچھ دل میں

سر پٹکنے سے کوئی رنگِ حنا ہو کیسے


شفیق ندوی

No comments:

Post a Comment