Thursday, 17 March 2022

نقاب رخ سے ہٹاتے تو رات کٹ جاتی

 نقاب رُخ سے ہٹاتے تو رات کٹ جاتی

نظر نظر سے ملاتے تو رات کٹ جاتی

تمہاری دِید کو ترسے ہوئے تھے ہم اور تم

بس اک نظر کو اُٹھاتے تو رات کٹ جاتی

شبِ وصال، ستارے بھی توڑ لاتے ہم

ستارے توڑنے جاتے تو رات کٹ جاتی

یوں بے نیاز سے بیٹھے رہے ہو تم لیکن

ذرا سا ربط دکھاتے تو رات کٹ جاتی

وہ شوخیاں، وہ ادائیں، وہ فاصلہ رکھنا

تم آ کے مجھ کو ستاتے تو رات کٹ جاتی

اُداس شام کا تنہائی کا جُدائی کا

ذرا سا جشن مناتے تو رات کٹ جاتی

اے کاش ہوتے مِرے ساتھ محفلِ شب میں

گلے سے مجھ کو لگاتے تو رات کٹ جاتی

چراغ جلنے سے پہلے ہی جا چکے تھے تم

نہ ایسے چھوڑ کے جاتے تو رات کٹ جاتی

سہا ہے تم نے بھی دنیا کا ہر سِتم، لیکن

ہم اپنے زخم دکھاتے تو رات کٹ جاتی

اندھیری رات میں ظلمت کا رونا نہ روتے

کوئی چراغ جلاتے تو رات کٹ جاتی

تمہاری ساری کہانی کو سن لیا ہم نے

ہم اپنی بات سناتے تو رات کٹ جاتی

تم اپنی پلکوں کو نمناک کر چکے یارو

اگر ہم اشک بہاتے تو رات کٹ جاتی

قبولیت کی یہی رات تھی اگر شاہد

دعا کو ہاتھ اٹھاتے تو رات کٹ جاتی


شاہد مرزا

No comments:

Post a Comment