حسیں ہے ماہ جبیں ہے وہ اک قیامت ہے
وہ ایک شخص جو میری بہت ضرورت ہے
ہزار قسم کے رنگوں سے ہے نہایا ہوا
تِری طرح یہ تِرا شہر خوب صورت ہے
ہم اس کے سامنے سچ کے دیے جلاتے ہیں
امیر شہر کو ہم سے یہی شکایت ہے
کہا کسی نے محبت بھی مار دیتی ہے
الٰہی خیر کسی سے مجھے محبت ہے
ہم ایک شہر میں رہ کر بھی ایک ہو نہ سکے
ہم ایک شہر میں رہتے ہیں یہ غنیمت ہے
کوئی کسی کا نہیں ہے یہ بات ساری غلط
یہ سارا جھوٹ کہ ہر سمت صرف نفرت ہے
ہم ایک جیسی فضاؤں میں سانس لیتے ہیں
خدا کا شکر کہ ان سے کوئی تو نسبت ہے
وہ ان حسین نگاہوں کی خیر ہو مولا
وہ جن کے دم سے مِری عاشقی سلامت ہے
وہ ایک کشتی کے طارق جو دو مسافر تھے
بچھڑ گئے ہیں تو ان کی عجیب حالت ہے
طارق ملک
No comments:
Post a Comment