Friday, 12 March 2021

ملتا ہے ہر چراغ کو سایا زمین پر

 ملتا ہے ہر چراغ کو سایا زمین پر

رہتا نہیں ہے کوئی اکیلا زمین پر

ہر ایک نقش اس کا ہوا لے کے اڑ گئی

کھینچا تھا ہم نے شوق کا نقشہ زمین پر

 بدلے ہوئے سے لگتے ہیں اب موسموں کے رنگ

پڑتا ہے آسمان کا سایا زمین پر

گوشہ ذرا سا کوئی اماں کا کہیں ملے

جی تنگ ہو گیا ہے کشادہ زمین پر

ہر ایک موج رک سی گئی سانس کی طرح 

بہتا نہیں ہے اب کہیں دریا زمین پر 

وہ جن کو میرے گھر کا نشاں بھی نہیں ملا 

حیراں ہیں مجھ کو دیکھ کے زندہ زمین پر 


ہمدم کاشمیری

No comments:

Post a Comment