Friday, 12 March 2021

یادیں چلیں خیال چلا اشک تر چلے

 یادیں چلیں، خیال چلا، اشکِ تر چلے

لے کر پیامِ شوق کئی نامہ بر چلے

دل کو سنبھالتے رہے ہر حادثے پہ ہم

اب کیا کریں کہ خود تِرے گیسو بکھر چلے

ہر گام پہ شکست نے یوں حوصلہ دیا

جس طرح ساتھ ساتھ کوئی ہمسفر چلے

شوقِ طلب نہ ہو، کوئی بانگِ جرس تو ہو

آخر کوئی چلے، تو کس اُمید پر چلے

اب کیا کرو گے سیرِ سمن زارِ آرزو

رُت جا چکی، چڑھے ہوئے دریا اُتر چلے

راہوں میں ہوش سنگ برستے ہیں ہر طرح

لے کر یہ کاروانِ تمنا کدھر چلے؟


ہوش ترمذی

No comments:

Post a Comment