Friday, 5 March 2021

دشمنی بھی ہو تو اک معیار ہونا چاہیے

 دشمنی بھی ہو تو اک معیار ہونا چاہیے

یاد رکھو سینے پر ہر وار ہونا چاہیے

دھوپ بونے والا بھی یہ چاہتا ہے دیکھیے

اس کے سر پر پیڑ سایہ دار ہونا چاہیے

یا جنونِ زندگی ہو یا تو شوقِ مرگ ہو

آدمی کو کوئی تو آزار ہونا چاہیے

پیچ و خم میں رہروی کا لطف پنہاں ہوتا ہے

راستوں کو مثلِ زلفِ یار ہونا چاہیے

کتنے یوسف اب بھی ہیں تیار بکنے کے لیے

شرط یہ ہے مصر کا بازار ہونا چاہیے

دیکھ اپنے دل کے دروازے کا تالا کھول دے

خالی کمرے میں کرایہ دار ہونا چاہیے

ایک ٹوٹے دوسرے کی آس باقی رہ سکے

آنکھوں میں تو خوابوں کا انبار ہونا چاہیے

ساقی کی من مانیوں پر نقطہ چینی جو کرے

مے کدے میں ایسا اک مے خوار ہونا چاہیے


احمد کمال حشمی

No comments:

Post a Comment