زمانے بھر میں ہیں یوں تو ہمارے صد دشمن
ہیں دوستوں میں بھی شامل کئی عدد دشمن
کہیں سے سنگ چلے آ کے ہم کو لگتا ہے
ہجوم سر میں بنا ہے ہمارا قد دشمن
میرے خلوص پہ شک مت کرو رفیقو تم
میرے خلوص کی دیں گے تمہیں سند دشمن
عطا ہوئی ہیں ہمیں نفرتیں وراثت میں
گئے زمانوں میں تھے میرے اس کے جد دشمن
نہ میں سکندرِ اعظم ہوں اور نہ تو پورس
عداوتوں کی مقرر نہ کر تو حد دشمن
نہ دشمنی میں مزہ ہے نہ لطف یاری میں
ہے معتبر کوئی یار اور نہ مستند دشمن
میرے عدو میری خاطر ہیں میرا آئینہ
سنوار دیتے ہیں چہرے کے خال و خد دشمن
نبھائی جائے سلیقے سے دشمنی تو کمال
کوئی بھی رہ نہیں سکتا ہے تا ابد دشمن
احمد کمال حشمی
No comments:
Post a Comment