کیا مصیبت ہے بہار آتے ہی دیوانوں کے
چاک کُھل جاتے ہیں سِلتے ہی گریبانوں کے
جن نگاہوں میں کبھی جلوے تھے پری خانوں کے
ان میں اُگ آئے مناظر ہیں بیابانوں کے
زمرے میں رکھے ہو اپنوں کو ہی بیگانوں کے
جوں گلِ خشک نہ گلشن کے نہ گلدانوں کے
اب تو گھر گھر سے ہی اٹھتا ہے جنوں کا نغمہ
پھول صحراؤں میں کِھلتے ہیں گلستانوں کے
جِن کی عظمت کو سناتے نہیں تھکتے تم آج
ہم کہ گُم گشتہ سے کردار ہیں ان افسانوں کے
سرگزشت اپنی ذرا سی جو ملا دی ہم نے
کچھ الگ رنگ نظر آئیں گے افسانوں کے
جانے والے سے کہو یاد بھی لے کر جائے
ہم کہ نگراں نہیں مہمان کے سامانوں کے
حق پسندوں سے کسی طرح کی توقع کیسی
یہ نہ اپنوں کے طرفدار نہ تو بیگانوں کے
شمس اب کوئی تِرا ساتھ کہاں تک دے گا
تُو نے پیروں میں سفر باندھے ہیں ویرانوں کے
نام ہے شمس مقدر میں ہیں کالی راتیں
زندگی کچھ تو مطابق رہے عنوانوں کے
شمس خالد
No comments:
Post a Comment