Sunday, 9 October 2022

جو دعویدار ہیں، نہ تمہیں بھول پائیں گے

جو دعوے دار ہیں، نہ تمہیں بھول پائیں گے

وہ لوگ ایک دن میں تمہیں بھول جائیں گے

جن کو ہے زعم ہم نہ انہیں بھول پائیں گے

ایسا بھلائیں گے کہ انہیں بھول جائیں گے

تم باز آؤ گے نہ تو ہم باز آئیں گے

تم دھوکہ پھر سے دو گے تو ہم پھر سے کھائیں گے

سب دل میں ایک ساتھ بھلا کیوں سمائیں گے

ان کو اٹھائیں گے تبھی ان کو بٹھائیں گے

دیکھیں گے سب کے عیب، سبھی کو دکھائیں گے

مِل جائے آئینہ تو نگاہیں چرائیں گے

صیاد پر یہ دن بھی نہ سوچا تھا آئیں گے

ہم کو قفس میں ڈال کے، خود پھڑپھڑائیں گے

ان کو کریں گے نیست، ان کو مٹائیں گے

ہم سے تو ایسے خواب بھی دیکھے نہ جائیں گے

اب سے تِرے خیال جو اس دل میں آئیں گے

بس خوار، شرمسار ہوئے لوٹ جائیں گے

آنے بھی دے جنوں تِرے خطے میں آئیں گے

کچھ وحشتیں سمیٹ کے ہم لوٹ جائیں گے

گردش کے موڑ پر کہیں گر مل بھی جائیں گے

ہم لوگ اپنے آپ سے دامن بچائیں گے

ہٹتے نہیں ہیں راہ سے در سے نکل کے بھی

کیا لوگ سوچتے ہیں وہ واپس بلائیں گے

خود کو تلاش کرکے جو پا بھی چکے ہوں وہ

اپنے سوا کسی کو بھی کیا منہ لگائیں گے

رکھئے نہ خواب دل میں یہ غارت گرِ جہاں

جس میں مقیم ہوں گے اسی گھر کو ڈھائیں گے

اب تک جنابِ دل سے برے تجربے ہوئے

اب دیکھنا ہے آگے یہ کیا گل کھلائیں گے

وہ ایک کشمکش تھی کہ روکی تھی جس نے راہ

ہم کوئی بادہ نوش ہیں جو لڑکھڑائیں گے

جاتے ہو جاؤ، جاؤ، یہ مت سوچنا کہ ہم

آواز دے کے، روک کے، واپس بلائیں گے

جذبات، خواہشات سبھی کو مٹا کے ہم

اب دل کو اپنے گورِ غریباں بنائیں گے

تم اپنی اپنی کہتے ہی لو اپنی راہ، ہم

اپنے میں آئیں گے تبھی اپنی سنائیں گے

اپنی ہی راہ کا سبھی روڑا ہوئے ہیں خود

اپنی ہی راہ سے سبھی خود کو ہٹائیں گے

کچھ ایسا ہی کٹھن ہے یہ جیون کا راستہ

جن پر حیات تنگ ہو وہ مسکرائیں گے

روندیں گے اپنے آپ کو دنیا سے مل کے ہم

اس خاک کو تو خاک میں جا کر ملائیں گے

جن پر خیالِ خود ہی بڑا ناگوار ہو

وہ کیوں خیالِ غیر کا بوجھا اٹھائیں گے

کچھ نا شناس چہرے نظر آئے سامنے

سنتے تھے اپنے آپ سے ملنے کو جائیں گے

اے کاش کچھ خبر تو ہوا کرتی خواب سب

اس زندگی کی جنگ میں ہی کام آئیں گے

ہم نے تو اپنی ذات سے بھی چھوڑ دی امید

ہم لوگ کیا کسی کو بھلا آزمائیں گے

ہم نے تو جس عذاب میں کاٹی تمام عمر

تم ایک دن بِتا لو تو ہم مان جائیں گے

سب ربط کے تماشے دکھاوے یہ چاہ کے

کچھ دن تلک چلیں گے کہ پھر بھول جائیں گے

مت بات کیجے شمس سے بس دل جلائے گا

تاثیر اس کے نام کی لہجے میں پائیں گے


شمس خالد

No comments:

Post a Comment