آنکھیں گنوا کے خواب بچانے کا مرحلہ
یعنی کسی کے پاؤں میں آنے کا مرحلہ
پتھر سے میرے سر کی بڑی دوستی رہی
طے ہو سکا نہ آپ کے شانے کا مرحلہ
اندھے مسافروں کے عقیدے کی خیر ہو
ان کو ہے پیش رستہ دکھانے کا مرحلہ
ہم کو متاعِ لمس میسر نہیں رہی
اب ہے جبیں پہ داغ لگانے کا مرحلہ
لمحوں کا کرب صدیوں کی راحت کو کھا گیا
عجلت کی رُت میں ضبط دکھانے کا مرحلہ
میں نے نظر میں ساری صعوبت سمیٹ لی
یہ ہے خود اپنا ہاتھ بٹانے کا مرحلہ
آنکھوں پہ میری پاؤں کوئی بھول کرگیا
آیا ہے ہاتھ لمس چرانے کا مرحلہ
جانا ہے جس نے اسکی سہولت کے واسطے
ہے آ گیا چراغ بجھانے کا مرحلہ
لگتا ہے یوں صلیب پہ سانسیں لٹک گیئں
مشکل ہے کتنا ہاتھ چھڑانے کا مرحلہ
ممکن ہے تب تلک مِری آنکھیں سفید ھوں
دیکھوں نہ تیرے لوٹ کے آنے کا مرحلہ
تتلی مزاج شخص کو ہر وقت پیش ہے
میری نظر کا بوجھ اٹھانے کا مرحلہ
کم فہم ساعتوں کے مداوے کا وقت ہے
اب ہے زمانہ ساز، زمانے کا مرحلہ
شائد کسی نظر میں مجھے معتبر کرے
تیری نظر میں خود کو گرانے کا مرحلہ
کاظم طلب کی آنچ کی یخ بستگی پہ حیف
پانی میں یہ ہے آگ لگانے کا مرحلہ
کاظم حسین کاظم
No comments:
Post a Comment