نظم کے آنے سے پہلے ایک نظم
وہ جب آئے گی تو
دھوپ میں بارش ہو گی
بادل نیچے تک جھک آئیں گے
دُور افق پر
ایک دھنک سی لہرائے گی
سورج شام سے پہلے
جانے کی تیاری پکڑے گا
چاند نکلنے کی کوشش میں
ایک ستارے سے ٹکرا جائے گا
پارک میں گھومتی
کالی بلی بھاگ کے
سامنے ممٹی والے گھر میں گھس جائے گی
وہ جب آئے گی تو
سارے حشرات الارض بھی
رینگتے لہراتے، بَل کھاتے آ جائیں گے
سَر سَر کرتی خاموشی میں
نادیدہ سانپ کے ذکر سے وہ
ڈر جائے گی
چیونٹی کے خوابوں کی
فلم بنا کر
اپلوڈ کرے گی اور وائرل ہو جائے گی
جھاڑیاں، پیڑ اور پودے
اپنی جگہ چھوڑ کے اس کی ہتھیلی پر اُگ آئیں گے
مُرجھائے پھول بھی دوبارہ کِھل جائیں گے
وہ جب آئے گی تو
ہم لمبی واک پہ نکلیں گے
رستے میں پیدل چلتے، جوگنگ کرتے
جتنے لوگ بھی گزریں گے
ان کے بارے میں سوچیں گے
پُل کی ریلنگ سے
نیچے دریا میں جھانکیں گے
دنیا بھر کی باتیں کرتے جائیں گے
آنکھوں میں آس پاس کے
سب منظر بھرتے جائیں گے
تھک کر ایک پرانے
بینچ پہ دیر تلک بیٹھیں گے
بیٹھے بیٹھے بِن سوچے
ایک نئی نظم بنے گی
اور بنتی جائے گی
وہ جب آئے گی تو
صدیوں سے ایک جگہ پر
ٹھہرا وقت بھی اپنی چال میں آ جائے گا
مستقبل حال میں آ جائے گا
چائے پی کر، ڈونٹ کھا کر
ماضی میں ٹُن ہو جائیں گے
وقت کے سوناٹے کی
کوئی قدیمی دُھن ہو جائیں گے
چلتے چلتے
آغاز تلک جا پہنچیں گے
کُن" کے راز تلک جا پہنچیں گے"
ٹائم مشین کا بٹن دبانا بھول گئے تو
واپس کیسے آئیں گے؟
کیا ہم اپنے
وقت میں آنے سے پہلے
مر جائیں گے
نصیر احمد ناصر
No comments:
Post a Comment