Monday, 10 October 2022

اپنے ہر ایک سانس میں صدیاں گزار کے

  اپنے ہر ایک سانس میں صدیاں گزار کے

بیٹھے ہیں کس کی راہ میں موسم بہار کے

اک لمحۂ حیات بھی اس بوجھ میں نہ تھا

دیکھا جو سر سے عمر کی گٹھڑی اتار کے

کِرنوں کی آبشار بھی گدلی ہے کس قدر

چِھینٹے ہوا کے منہ پہ ہیں گرد و غبار کے

دن کو مِری نگاہ میں شب جاگتی رہے

سوتا ہوں اپنی آنکھ میں سورج اتار کے

اک تیسرے جہان کی مجھ کو تلاش ہے

”دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے“

دل میں خیالِ سُود سے خوفِ زِیاں رہا

میں صرف بھی نہ کر سکا لمحے اُدھار کے

قُربِ زمیں کی آنچ کو محسوس تو کرے

سورج خلا میں پھینک دے شعلے اتار کے

اپنا ثبات خاک کے پیکر میں رکھ دیا

دیکھے تو کوئی حوصلے پروردگار کے

نغمے تراشنے کا ہنر اس سے سیکھیۓ

جو جی رہا ہو روح میں چِیخیں اتار کے


سید مبارک شاہ ہمدانی 

No comments:

Post a Comment