اپنے ہر ایک سانس میں صدیاں گزار کے
بیٹھے ہیں کس کی راہ میں موسم بہار کے
اک لمحۂ حیات بھی اس بوجھ میں نہ تھا
دیکھا جو سر سے عمر کی گٹھڑی اتار کے
کِرنوں کی آبشار بھی گدلی ہے کس قدر
چِھینٹے ہوا کے منہ پہ ہیں گرد و غبار کے
دن کو مِری نگاہ میں شب جاگتی رہے
سوتا ہوں اپنی آنکھ میں سورج اتار کے
اک تیسرے جہان کی مجھ کو تلاش ہے
”دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے“
دل میں خیالِ سُود سے خوفِ زِیاں رہا
میں صرف بھی نہ کر سکا لمحے اُدھار کے
قُربِ زمیں کی آنچ کو محسوس تو کرے
سورج خلا میں پھینک دے شعلے اتار کے
اپنا ثبات خاک کے پیکر میں رکھ دیا
دیکھے تو کوئی حوصلے پروردگار کے
نغمے تراشنے کا ہنر اس سے سیکھیۓ
جو جی رہا ہو روح میں چِیخیں اتار کے
سید مبارک شاہ ہمدانی
No comments:
Post a Comment