یوں تو ملنے کو کیا نہیں ملتا
ایک اس کا پتہ نہیں ملتا
سب کے سب گامزن ہیں اس کی طرف
کیوں مجھے راستہ نہیں ملتا؟
مُدعائے دُعا ہے آنکھوں میں
اور حرفِ دُعا نہیں ملتا
ہو کے مایوس کیوں نہ لوٹ آؤں
آپ سا دوسرا نہیں ملتا
کوئی مُنکر تِرا ہُوا تب ہی
جب یہ لگنے لگا نہیں ملتا
کہہ رہے ہو بہار آئی ہے
ایک پتہ ہرّا نہ ملتا
اس کے بندوں کا حق بھی دیجے شمس
سجدوں سے ہی خدا نہیں ملتا
شمس خالد
No comments:
Post a Comment