Tuesday, 15 June 2021

اب ترا بھی نہیں ملال ہمیں

 اب تِرا بھی نہیں ملال ہمیں

لوگ کہتے ہیں با کمال ہمیں

اب کسی کو ہماری فکر نہیں

اب کسی کا نہیں خیال ہمیں

اس قدر زہر بار کر لہجہ

شاق گزرے تِرا سوال ہمیں

ہم کہیں کھو چلے تھے جانِ من

ڈھونڈ لایا تِرا خیال ہمیں

ہنس پڑے ہیں وفا کا سن کر نام

یاد آئی تِری مثال ہمیں

اب نہ ہو درپئے مداوائے غم

آ چکا راس اپنا حال ہمیں

کیوں مسلسل یہ سوچ رہتی ہے

کُوچ کرنا ہے اب کی سال ہمیں

اپنی نظروں سے گر گئے ہیں ہم

کر دیا کس نے پائمال ہمیں

ہجر کی رات دل شکن ہے بہت

یاد آ لذت وصال! ہمیں

آئی تھیں اِنبساط کی گھڑیاں

کر گئیں اور شکستہ حال ہمیں

شمس خود سے ہی یہ عداوت کیوں

رنج دیتا ہے تیرا حال ہمیں


شمس خالد

No comments:

Post a Comment