آڑے ترچھے پتھر کاٹنے پڑتے ہیں
ہجر میں سات سمندر کاٹنے پڑتے ہیں
زیست کی چھوٹی سی فائل سرکانے کو
کتنے سارے دفتر کاٹنے پڑتے ہیں
دل کے پاس اندھیرا سا اک کمرہ ہے
صدمے اس کے اندر کاٹنے پڑتے ہیں
جب لوگوں سے مل کر رہنا آئے نہیں
بیچ سے آنگن اور گھر کاٹنے پڑتے ہیں
اک چہرہ تصویر سے باہر لانے کو
اچھے خاصے منظر کاٹنے پڑتے ہیں
جن کا قد بڑھ جاتا ہے بےقامت ہی
ایسے لوگوں کے سر کاٹنے پڑتے ہیں
حمیرا رحمان
No comments:
Post a Comment