دلوں پہ بوجھ بڑھانے کی کیا ضرورت ہے
خدا کو خواب دکھانے کی کیا ضرورت ہے
مجھے پتا ہے تمہیں کون کتنا چاہتا ہے
تمہیں یقین دلانے کی کیا ضرورت ہے
اگر شکار کی نیّت سے جا رہا ہوں میں
تمہیں نشانے پہ آنے کی کیا ضرورت ہے
یہی نہ ہو کوئی تم پر بھی ہاتھ اٹھا لے تمہیں
کسی پہ انگلی اٹھانے کی کیا ضرورت ہے
چلو یہ مان لیا تم ہی حق بجانب ہو
مگر یہ اشک بہانے کی کیا ضرورت ہے
جسے ہماری ضرورت پڑی ہے بات کرے
ہمیں کسی کو منانے کی کیا ضرورت ہے
معید مرزا
No comments:
Post a Comment