Tuesday, 15 June 2021

عجیب کرب سا ہے زندگی کے چہرے پر

 عجیب کرب سا ہے زندگی کے چہرے پر

اندھیرا جیسے کسی روشنی کے چہرے پر

یقین کیسے کروں میں تمہاری باتوں کا

کہ قطرے اشک کے ہیں شعلگی کے چہرے پر

چھپا ملا مجھے غم کی سیاہ راتوں میں

جسے میں ڈھونڈ رہا ہوں خوشی کے چہرے پر

زمانے بھر میں ہوئے حادثے جو روز و شب

نمایاں ہیں وہ مِری شاعری کے چہرے پر

جو اک خلوص تھا ناپید ہو گیا احسن

غبار بغض ہے اب دوستی کے چہرے پر


احسن امام

No comments:

Post a Comment