Tuesday, 15 June 2021

کسی بے وفا چاہت کے سراب میں

 کسی بے وفا چاہت کے سراب میں 

گنوا دیں سب چاہتیں عذاب میں

شدت احساس دلا کر تنہا کر گئے

چالیں تھیں سب وفا کے نقاب میں

تسکین ہوس، متلاشی ضرورت

بدل لیتے ہیں وفائیں حساب میں 

شدت غم سے سنبھل جاتے ہیں

مرہم گزرتے شب و روز عتاب میں 

مُرجھا جانا شاخ سے جدا ہو کر

خالص وفائیں ہوتی ہیں گلاب میں

با وفا ہی ہوتے ہیں با کردار کبیر 

بے وفا بے کردار عشقِ حساب میں 


شہزادہ کبیر

No comments:

Post a Comment