کسی بے وفا چاہت کے سراب میں
گنوا دیں سب چاہتیں عذاب میں
شدت احساس دلا کر تنہا کر گئے
چالیں تھیں سب وفا کے نقاب میں
تسکین ہوس، متلاشی ضرورت
بدل لیتے ہیں وفائیں حساب میں
شدت غم سے سنبھل جاتے ہیں
مرہم گزرتے شب و روز عتاب میں
مُرجھا جانا شاخ سے جدا ہو کر
خالص وفائیں ہوتی ہیں گلاب میں
با وفا ہی ہوتے ہیں با کردار کبیر
بے وفا بے کردار عشقِ حساب میں
شہزادہ کبیر
No comments:
Post a Comment