جانے کتنے راز چھپا رکھے ہیں کرونا نے
سُورما بھی بُزدل بنا رکھے ہیں کرونا نے
بازارِ حُسن بھی ویران ہیں، سب پریشان ہیں
حُسن پرست سب ہی ستا رکھے ہیں کرونا نے
عاشق نہیں ملتے اب کسی گلی یا کوچے میں
مجنوِں فرہاد گھر بٹھا رکھے ہیں کرونا نے
وہ جو کرتے تھے ہم پہ جان قربان اپنی
ملنے ملانے سے ڈرا رکھے ہیں کرونا نے
مجھے بھی گھر کی چار دیواری میں قید کر کے
میرے گھر کو تالے لگا رکھے ہیں کرونا نے
تھم جانے میں ہی آفیت ہے تمہاری رند
کئی جلتے چراغ بجھا رکھے ہیں کرونا نے
دانیال رند
No comments:
Post a Comment