عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یہ کیا ہوا کہ مکرر درود پڑھنے لگا
وجود میرا سراسر درود پڑھنے لگا
درخت سر کو جھکائے ہوا چلا آیا
جو انؐ کو دیکھا تو پتھر درود پڑھنے لگا
زمین والوں نے بھیجا سلام کا تحفہ
خدا بزرگ و برتر درود پڑھنے لگا
تمام حور و ملائک میں شورِ صلے علی
فلک پہ ماہ منور درود پڑھنے لگا
دھڑک کے دل نے کہا یا محمدِؐ عربی
پھراس کے بعد برابر درود پڑھنے لگا
لیا جو نام نبی تو چمک گئی قسمت
اجل گیا جو مقدر درود پڑھنے لگا
جو لکھ چکا تو پڑھی حمد شکر واجب تھا
قلم بھی نعت کے اوپر درود پڑھنے لگا
ملا سکون بہت دل کو نعت لکھنے سے
یہی تو ذکر ہے یاور درود پڑھنے لگا
ثواب نعت بھی ہدیہ کیا ہے مہدی کو
لحد میں وہ بھی تو اٹھ کر درود پڑھنے لگا
عجیب بات ہے ثروت پسر کے جانے پر
یہ دل بہ گریہ مضطر درود پڑھنے لگا
ثروت رضوی
No comments:
Post a Comment