سنا ہے
سنا ہے جب زمستانی ہوائیں
مُنقّش نیلگُوں گنبد کو بوسہ دے کے آتی ہیں
تو ان کے لمس کو پا کر
چمکتے سرد برفیلے فرش پر کپکپاتے طائروں کو
حرارت بخش دیتی ہیں
حرارت بھی وہی جو طاقتِ پرواز دیتی ہے
یہ طائر ان ہواؤں میں جب اُڑتے ہیں
اُفق کے پار ساتوں آسماں کی وُسعتوں کو چھُو کے آتے ہیں
یہ طائر جس در و دیوار پر بیٹھیں
مقدّر جگمگاتے ہیں
میرے چشمِ تخیّل میں
شبِ جمعہ
مُنقّش نیلگُوں گنبد کے سارے رنگ آ کر مسکراتے ہیں
میں اپنی دل کی آنکھوں سے
یہ منظر دیکھ سکتی ہوں
چمکتے سرد برفیلے فرش پر
دمِ صبح
فقط صلِ علیٰ کے وِرد کی تسبیح
کبوتر گُنگناتے ہیں
ثروت رضوی
No comments:
Post a Comment