Wednesday, 5 May 2021

اک اور شہر طلب کی صدا نہیں ہوا میں

 اک اور شہرِ طلب کی صدا نہیں ہُوا میں

تِرے طلسم سے اب تک رہا نہیں ہوا میں

کوئی ملا ہی نہیں جس سے ناپتا خود کو

سو اپنے قد سے زیادہ بڑا نہیں ہوا میں

تِرے بغیر بھی شاید یہ وقت کٹ جائے

اس احتمال پہ تجھ سے جدا نہیں ہوا میں

مجھےعزیز ہیں میرے اصول سو تجھ سے

لڑا ضرور ہوں لیکن خفا نہیں ہوا میں

اگرچہ اس کی نیابت میں عمر گزری ہے

کرم خدا کا رہا ہے، خدا نہیں ہوا میں

بس اگلے پَل ہی اُٹھا تھا میں جھاڑ کر خود کو

گِرا ضرور تھا, لیکن پڑا نہیں ہوا میں

تمہارا در ابھی رہتا ہے, دیکھیے کیا ہو

کسی کے در پہ  تو اب تک کھڑا نہیں ہوا میں


اسد رحمان

No comments:

Post a Comment