Wednesday, 5 May 2021

چلائی سانس کی آری

 چلائی سانس کی آری

جوانی کاٹ دی ساری

نکالا وقت پر غصہ

گھڑی دیوار پر ماری

یہ گنبد جیسی پگڑی میں

بندھی ہے سوچ درباری

کئی آتے ہیں جاتے ہیں

اجی کاہے کی غمخواری

ہمارے گاؤں کا موسم

درختوں کی ریا کاری

چھپایا ہے بہت خود کو

دکھائی ہے سمجھداری

بہت ہی تنگ ہے ہم پر 

بدن کی چار دیواری


آفتاب نواب

No comments:

Post a Comment