چلائی سانس کی آری
جوانی کاٹ دی ساری
نکالا وقت پر غصہ
گھڑی دیوار پر ماری
یہ گنبد جیسی پگڑی میں
بندھی ہے سوچ درباری
کئی آتے ہیں جاتے ہیں
اجی کاہے کی غمخواری
ہمارے گاؤں کا موسم
درختوں کی ریا کاری
چھپایا ہے بہت خود کو
دکھائی ہے سمجھداری
بہت ہی تنگ ہے ہم پر
بدن کی چار دیواری
آفتاب نواب
No comments:
Post a Comment