پتھر کی عورت
باجی آپ تو پتھر کی عورت ہیں
زینت نے اس کے پاؤں کے کورن کا مساج کرتے ہوئے اچانک کہا
اور پھر نیم گرم تیل ہاتھ میں لے کر زخمی انگوٹھے کو ملنے لگی
کیسے لگائی ہیں یہ گانٹھیں؟
اب کی بار اس نے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیے
لائیں، ہاتھ بھی کتنے سخت ہیں آپ کے
اتنے تو روز گھر گھر کے برتن کپڑے دھونے کے باوجود میرے بھی نہیں
اپنا خیال رکھا کریں ناں
دیکھیں
اس نے سستی سی تیز گلابی رنگ والی نیل پالش لگے سانولے ہاتھ میرے سامنے پھیلا دئیے
ماسی ہوں پر پتھر نہیں
روز گرم تیل سے مساج کروں گی نا آپ کے ہاتھ پاؤں کا
دیکھیے گا، یہ سب گانٹھیں کھل جائیں گی
نرم ہو جائیں گے ہاتھ پاؤں
دعا دیں گی مجھے
سچ میں پتھر کی عورت ہیں آپ، وہ سر جھٹک کر دوبارہ بولی
ارے، آپ ایسے کیوں دیکھ رہی ہیں
کیوں میری بات بری لگ گئی؟
ایک بات بتا زینت
دل کی گانٹھیں کیسے کھلتی ہیں
دل کی سختی کیسے گھلتی ہے
جب دل پتھر ہو جائے سب پتھر ہو جاتا ہے
ہاں
تُو نے سچ کہا
میں پتھر کی عورت ہوں
ثروت رضوی
No comments:
Post a Comment