Sunday, 13 December 2020

کچھ باتیں میں صرف تمہی سے کہتا ہوں

کچھ باتیں


 کچھ باتیں میں صرف تمہی سے کہتا ہوں

کچھ باتیں دریا سے ہی ہو سکتی ہیں

کچھ باتیں صحرا کی ریت سے ممکن ہیں

کچھ باتیں بس جنگل ہی سن سکتا ہے

کچھ باتیں تاروں سے کرنے والی ہیں

کچھ باتیں پھولوں کے سننے والی ہیں


کچھ باتیں بہتی ہیں ایک روانی میں

کچھ باتیں اڑتی ہیں رائیگانی میں

کچھ باتیں آوازوں کی محتاج نہیں

کچھ باتیں روشن کرتی ہیں راتوں کو

کچھ باتیں مہکائیں باقی باتوں کو

کچھ باتیں میں خود سے بھی نہیں کر پاتا

کچھ باتیں میں صرف تمہی سے کہتا ہوں

کچھ باتیں دریا سے ہی ہو سکتی ہیں


ازہر ندیم

No comments:

Post a Comment