کچھ باتیں
کچھ باتیں میں صرف تمہی سے کہتا ہوں
کچھ باتیں دریا سے ہی ہو سکتی ہیں
کچھ باتیں صحرا کی ریت سے ممکن ہیں
کچھ باتیں بس جنگل ہی سن سکتا ہے
کچھ باتیں تاروں سے کرنے والی ہیں
کچھ باتیں پھولوں کے سننے والی ہیں
کچھ باتیں بہتی ہیں ایک روانی میں
کچھ باتیں اڑتی ہیں رائیگانی میں
کچھ باتیں آوازوں کی محتاج نہیں
کچھ باتیں روشن کرتی ہیں راتوں کو
کچھ باتیں مہکائیں باقی باتوں کو
کچھ باتیں میں خود سے بھی نہیں کر پاتا
کچھ باتیں میں صرف تمہی سے کہتا ہوں
کچھ باتیں دریا سے ہی ہو سکتی ہیں
ازہر ندیم
No comments:
Post a Comment