Sunday, 13 December 2020

یہ زمیں آسماں سب غلط

 یہ زمیں، آسماں، سب غلط

منزلیں، کارواں، سب غلط

کوئی اچھا نہیں ہے یہاں 

نقشِ پا اور نشاں، سب غلط

نشانہ شکار پہ ہے منحصر 

تیر اور کماں، سب غلط

وہ مہر و ماہ ہے تو پھر 

چاند اور کہکشاں، سب غلط 

یاں تو منصف ہی سچا ہے

مدعی اور بیاں، سب غلط

اب خزاں میں چمن ہرا ہو گا

باغ اور باغباں، سب غلط

قافلے لٹتے خود ہی ہیں

راہزن، راہرواں، سب غلط 

جو دیکھو، کرو یقیں اس پر

یہ وہم اور گماں، سب غلط

ٹھیک ہے تو بس ثاقب ہے

یہ زمین و زماں، سب غلط 


عبید ثاقب

No comments:

Post a Comment