زندہ رہنے کی یہ ترکیب نکالی میں نے
اپنے ہونے کی خبر سب سے چھپا لی میں نے
جب زمیں ریت کی مانند سرکتی پائی
آسماں تھام لیا،۔ جان بچا لی میں نے
مرحلہ کوئی جدائی کا جو در پیش ہوا
بعد مدت مجھے نیند آئی بڑے چین کی نیند
خاک جب اوڑھ لی اور خاک بچھا لی میں نے
جو علیناؔ نے سرِ عرش دعا بھیجی تھی
اس کی تاثیر یہیں فرش پہ پا لی میں نے
علینا عترت
No comments:
Post a Comment