Saturday, 8 August 2020

ہر اک ورق میں نمایاں ہر ایک باب میں ہم

ہر اک ورق میں نمایاں ہر ایک باب میں ہم
تھے حاشیہ کی طرح پھر بھی اس کتاب میں ہم
جواب ہم تھے ہمارے لیے جواب نہ تھے
سوال میں تو تھے شامل نہ تھے جواب میں ہم
کوئی 'ملا' ہی نہیں جس سے حالِ دل کہتے
ملا تو رہ گئے لفظوں کے انتخاب میں ہم
کسی نے خواب میں دیکھا ہمیں تو خواب کیا
کہ عمر بھر کو ہوۓ قید ایک خواب میں ہم
عیاں تھے جذبۂ دل اور بیاں تھے سارے خیال
کوئی بھی پردہ نہ تھا جب کہ تھے حجاب میں ہم
علینا تجربے ہیں 'تلخ' اس کے 'مکتب' کے
تو اور امتحاں دیں گے نہ اس نصاب میں ہم

علینا عترت

No comments:

Post a Comment