ہر اک ورق میں نمایاں ہر ایک باب میں ہم
تھے حاشیہ کی طرح پھر بھی اس کتاب میں ہم
جواب ہم تھے ہمارے لیے جواب نہ تھے
سوال میں تو تھے شامل نہ تھے جواب میں ہم
کوئی 'ملا' ہی نہیں جس سے حالِ دل کہتے
کسی نے خواب میں دیکھا ہمیں تو خواب کیا
کہ عمر بھر کو ہوۓ قید ایک خواب میں ہم
عیاں تھے جذبۂ دل اور بیاں تھے سارے خیال
کوئی بھی پردہ نہ تھا جب کہ تھے حجاب میں ہم
علینا تجربے ہیں 'تلخ' اس کے 'مکتب' کے
تو اور امتحاں دیں گے نہ اس نصاب میں ہم
علینا عترت
No comments:
Post a Comment