Saturday, 8 August 2020

پرندے جا چکے ہیں کب کے گھونسلوں کو بھی

پرندے جا چکے ہیں کب کے گھونسلوں کو بھی
بتائے رستہ کوئی ہم مسافروں کو بھی
میں جانتا ہوں کہ اک دن ہمیں بچھڑنا ہے
سنبھال رکھا جبھی تو ہے آنسوؤں کو بھی
ابھی تو دور ہے منزل، کہ کاٹنی ہیں ابھی
ملی جو ورثے میں ہیں ان مسافتوں کو بھی
کہاں وہ وقت، ہواؤں پہ "حکم" چلتا تھا
اور اب یہ حال ترستے ہیں آہٹوں کو بھی
عجب ہیں ہم کہ بنانا مکان "کچا" ہی 
اور اہتمام سے گھر لانا بارشوں کو بھی
سبھی لگے ہیں جو پیوند کرنے شاخوں کو
کسی نے دیکھا ہے دیمک زدہ جڑوں کو بھی

جلیل حیدر

No comments:

Post a Comment