Saturday, 8 August 2020

تم دھوپ سے نہ دھوپ کی یلغار سے بچو

تم دھوپ سے نہ دھوپ کی یلغار سے بچو
دیوار "گرنے" والی ہے، دیوار سے بچو
رکھ دے نہ کاٹ کر کہیں سارے وجود کو
خود ساختہ "اناؤں" کی "تلوار" سے بچو
وہ دل کا "ٹوٹنا" تو کوئی "واقعہ" نہ تھا
اب ٹوٹے دل کی کرچیوں کی دھار سے بچو
یہ ٹھنڈی چھاؤں شوقِ سفر ہی نہ چھین لے
ہر "راستے" کے نخلِ سایہ دار سے بچو
ایسا نہ ہو کہ بوجھ سے سر ہی نہ اٹھ سکے
تم بھیک میں ملی ہوئی "دستار" سے بچو

جلیل حیدر

No comments:

Post a Comment